ابنا: شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون نے شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں مغربی ممالک کا پروپیگںدہ جھوٹ پر مبنی ہے اور مغربی ممالک نے کبھی بھی عالمی سطح پر سچ پر مبنی حقائق کو پیش نہیں کیا ہے۔ شام کے مفتی اعظم نے کہا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا مسئلہ بھی ایٹمی ہتھیاروں کے مانند ہے اور اس قسم کے ہتھیاروں کی پیداوار اور استعمال ہمارےعقیدےکے مطابق حرام ہے۔
شام کے مفتی اعظم نے کہا کہ حصرت امام خمینی (رہ) اور حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کیمیاوی اور ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار کو حرام قراردیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے بھی اعتراف کیا ہےکہ ایسے شواہد اور اسناد موجود ہیں جن کے مطابق شام نے کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم ایک دن فلسطین میں کامیابی کے ساتھ داخل ہوجائیں تو وہاں بھی ہم کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ جو ممالک شام کے خلاف غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں ان کےپاس تو کیمیاوی اورایٹمی دونوں قسم کے ہتھیار موجود ہیں اگر وہ ہمارے خلاف مقدمہ قائم کریں گے تو ہم بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔
احمد حسون نےکہا کہ شام کے صدر بشار اسد شامی عوام کے محبوب اور ہر دلعزیز صدر ہیں جو مغربی ممالک کی آنکھ میں تیر ہیں کیونکہ بشار اسد خطے میں اسلامی مقاومت کے سب سے بڑے حامی اور اسرائیل کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شام کے عوام ان کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند کھڑے ہیں۔
شام کے مفتی اعظم نے کہا کہ سلفی وہابیوں کے ساتھ ہماری مشکل یہ ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ہی مسلمان سمجھتے ہیں اور دین کے صرف ظاہر پر عمل کرتے ہیں ان میں غور وفکر کی کوئی صلاحیت نہیں ہے وہ اسلام کا صحیح ادراک نہیں کر پائے ہیں اور ان کے اعمال اسلام اورمسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سلفی وہابیوں کا اسلام بنی امیہ کے اسلام سے ملتا جلتا ہے ان کی رفتار وگفتار میں پیغمبر اسلام (ص)کی سیرت کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔ سلفی وہابیوں کے پاس بنی امیہ کا اسلام ہے اور وہ اسی پر عمل کررہے ہیں۔
.......
/169